اہل بیت نیوز ایجنسی کے مطابق،کویتی اخبار الکویت الیوم‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ بعض معاملات میں ان افراد کی شہریت بھی منسوخ کی گئی ہے جنہوں نے اپنی شہریت کسی اصل شہری کے ذریعے حاصل کی تھی۔ نئے احکامات میں شہریت منسوخ کرنے کی مخصوص وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے بعد کویت میں سکیورٹی اقدامات سخت کیے گئے ہیں اور حکام نے ان افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جنہیں ایران، حزب اللہ یا ایران کے اقدامات کے حامیوں سے منسلک قرار دیا گیا۔
کویتی وزارت داخلہ نے مارچ 2026 میں حزب اللہ سے مبینہ طور پر منسلک ایک نیٹ ورک کی نشاندہی اور اس کے ارکان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اس کیس سے منسلک چھ کویتی شہریوں کی شہریت منسوخ کردی گئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد کویت میں بعض افراد کو ایران کے ساتھ ہمدردی پر مبنی مواد شائع کرنے اور ’’ایران کی جارحیت سے ہمدردی‘‘ جیسے الزامات کے تحت گرفتار یا ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے اپریل 2026 میں کویت کے قانونِ شہریت میں کی گئی ترمیم کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت حکومت کے شہریت منسوخ کرنے کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
کویت اس سے قبل جون 2026 میں بھی متعدد احکامات کے ذریعے 2,193 افراد کی شہریت منسوخ کرچکا ہے۔ نئے احکامات کے ساتھ ملک میں شہریت سے محرومی کا یہ سلسلہ مزید جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ